بنگلورو،23؍ مارچ(ایس او نیوز) جے ڈی ایس نے جمعہ کے دن راجیہ سبھا کی چار سیٹوں کیلئے ریاستی انتخابات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات کا الزام لگایا کہ ریٹرننگ آفیسر (آر او) نے حکمران کانگریس کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے اس کے دو اراکین کو دوبارہ ووٹ کرنے کا موقع دیا ۔ حالانکہ وہ اس سے پہلے مخالف پارٹی کے حق میں ووٹ دے چکے تھے۔ تاہم وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اس الزام کو غلط قرار دیا اور کہا کہ ووٹ ڈالنے سے پہلے مذکورہ دو ایم ایل اے نے بلیٹ پیپر پر اپنی غلطی کا احساس کر لیا۔ اس لئے انہوں نے دوسرا بیلٹ پیپر لیا جس کی گنجائش قانون میں موجود ہے۔
واضح رہے کہ کانگریس کے 3، جے ڈی ایس کے 1، بی جے پی کے 1 اُمیدوار میدان میں تھے ۔ جس وقت ووٹنگ جاری تھی جے ڈی ایس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے دعویٰ کیا کہ وہ سینئر کانگریس اراکین اسمبلی نے ان کی پارٹی کے باضابطہ امیدوار کے خلاف ’’کراس ووٹ ‘‘ کر کے بیلٹ پیپر میں مخالف پارٹی کے امیدوار کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ تاہم حکمران پارٹی کے ایجنٹ کی درخواست پر ریٹرننگ آفیسر نے بعد ازاں دونوں اراکین کو تازہ بیلٹ پیپر دے کر پھر سے ووٹ دینے کا موقع دیا۔
کمار سوامی نے کہا ’’کراس ووٹنگ دیکر ایجنٹ نے اعتراض کیا جس کے بعد ریٹرننگ آفیسر ان دونوں ووٹروں کو دوبارہ ووٹ کرنے کا موقع دیا جو دوسرا ووٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر نے تازہ بیلٹ پیپر کے ساتھ دوسرے ووٹ کا موقع دیا ہے۔ اس لئے اسے غیر قانونی قرار دے کر اہم احتجاج کریں گے۔
جے ڈی ایس نے الیکشن کمیشن کے مشاہدہ سے انتخابی عمل کو منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ کمار سوامی نے دعویٰ کیا کہ کانگریس اراکین اسمبلی کا گوڑتمپّا اور بابو راؤ چنچنسور دونوں کانگریس امیدواروں کے خلاف ووٹ دینا چاہتے تھے لیکن ریٹرننگ آفیسر نے حکومت کے ساتھ ’’ساز باز‘‘ کی ہے۔ سدارامیا نے اس کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جے ڈی ایس والے پریشان ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ہر طرح سے کوشش کرلی ہے۔ وہ عدالت بھی گئے تھے (اپنے 7باغی اراکین کو روکنے کیلئے )۔ عدالت میں ناکام رہے اور پریشانی کی حالت میں وہ الزامات لگارہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ کانگریس کے تمام تینوں امیدوار جیت جائیں گے ۔
واضح رہے کہ کانگریس نے ڈاکٹر ایل ہنومنتیا ، ڈاکٹر سید ناصر حسین اور جی سی چندرشیکھر کو امیدوار بنایا ہے۔ بی جے پی نے راجیو چندر شیکھر اور جے ڈی ایس نے بی ایم فاروق ۔ پارٹیوں کے اراکین کی تعداد کے مطابق کانگریس کو آسانی سے دو سیٹیں اور بی جے پی کو 1سیٹ مل جائے گی۔ مقابلہ تیسری سیٹ کیلئے کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیا ن ہے۔ کیونکہ یہاں بھی کانگریس پارٹی کو اپنے اراکین کے علاوہ 7جے ڈی ایس کے باغی اراکین کی بھی حمایت حاصل ہے۔ یہ باغی اراکین راجیہ سبھا کے انتخابات کے بعد کانگریس میں شامل ہورہے ہیں۔ کانگریس نے بی آر پاٹل (کے جے پی )، بی ناگیندرا(آزاد) اورا شوک کھینی (کے ایم پی ) سے بھی حمایت کی امید رکھی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ تیسرا امیدوار کو کھڑا کرنے کا کانگریس کا فیصلہ جے ڈی ایس کیلئے شدید دھچکا ثابت ہوا ہے کیونکہ مجوزہ اسمبلی انتخابات کے بعد کی ممکنہ سیاسی صف بندیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے جے ڈی ایس نے امید رکھی تھی کہ اس کے امیدوار کو کانگریس کی حمات ملے گی ۔
اسمبلی انتخابات مئی کے پہلے ہفتے میں ہونے والے ہیں۔ اسمبلی کی موجودہ تعداد 217ہے۔ جن میں کانگریس 122، بی جے پی 43، جنتادل 37، بی ایس آر کانگریس 03، کے جے پی 02، کرناٹکا مکلا پکشا 01، آزاد اراکین 08، اسپیکر 01، نامزد کردہ 01 ہے۔
واضح رہے کہ جون 2016میں ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں بھی موجودہ جے ڈی ایس امیدوار بی ایم فاروق نے انتخاب لڑا تھا لیکن جے ڈی ایس کے 8اراکین نے کانگریس امیدوار کے حق میں ووٹ دیا تھا اس لئے وہ ہار گئے تھے۔